Monday, October 15, 2012

عوام کی فلاح و بہبود اور نظریاتی ریاست کا دفاع




عوام کی فلاح و بہبود اور نظریاتی ریاست کا دفاع

ہم ایک مسلم معاشرہ میں لوگوں سے کٹ کر نہیں رہ سکتے، قرآن ایک اجتماعی پیغام ہے اور اس کے احکامات کو معاشرہ اور سوسائٹی کے لئے سمجھنا ضروری ہے۔ ریاست میں عوام کی بھلائی یعنی ایک ویلفئیر اسٹیٹ کا قیام اور اس نظریاتی ریاست کا دفاع قرآن ہم پر فرض‌کرتا ہے۔ پہلے دیکھئےسورۃ البقرۃ:1 , آیت:177
میری کوشش اب تک یہ رہی ہے کہ صرف ترجمے کی مدد سے قرآن کے پیغام کو سمجھ لیا اور سمجھا دیا جائے۔ اس آیت کے ترجمے میں، میں ایسے خیالات کی وضاحت کروں گا، جو اس آیت کو انفرادی پیغام کے نکتہ نظر سے نہیں بلکہ اجتماعی نکتہ نظر سے پیدا ہوتے ہیں۔

نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں

اللہ تعالی اس آیت میں نیکی کی تعریف (Definition of righteousness) فرماتے ہیں درج ذیل اہم نکات قایم کرتے ہیں۔

1۔ ایمان
اصل نیکی تو یہ ہے کہ آپ سب
1۔ اﷲ پر اور
2۔ قیامت کے دن پر اور 
3۔ فرشتوں پر اور
4۔ (اﷲ کی) کتاب پر اور
5۔ پیغمبروں پر ایمان لائیں، اور

2۔ مال کا خرچ کرنا
اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کریں، اور 

3۔ تماز کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی
نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور

4۔ وعدہ پورا کریں
جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور 

5۔ صبر کریں
اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار (نیکو کار) ہیں۔

تمام قرآن فہم اس بات سے متفق ہیں کہ اللہ تعالی ایک بہترین کلام کرنے والے ہیں۔ اور نہ اپنے الفاظ کا ضیاع کرتے ہیں نہ ہی بے کار خیالات کا اظہار۔ یہاں غور فرمائیے کہ اللہ تعالی نے ایمان کے فوراَ بعد اور تماز کے قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے پہلے ہم پر مال کا خرچ کرنا ( اتی المال) فرض کیا ہے۔ بھر دیکھئے اور اس کی ترتیب بھی عنایت فرمائی ہے

2۔ مال کا ادا کرنا
اﷲ کی محبت میں مال ادا کرو 
1۔قرابت داروں کو اور 
2۔ یتیموں کو اور
3۔ المساکین ( وہ جو ساکن ہوں اور جو نہ مانگتے ہوں پھر بھی ضرورت مند ہوں یعنی Employees یعنی ملازمین ہوں) کو اور
4۔ ابن السبیل ( سڑک کے بیٹے یعنی ( Homeless ) کو اور
5. سایلیں یعنی سوال کرنے والے ضرورت مندوں کو اور
5۔ (غلاموں یا جنگی قیدیوں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کریں، 

ذرا بغور دیکھئے، قران واضح طور پر ایک اجتماعی فریضہ ہم پر عاید کر رہا ہے۔ جو ایمان لانے کے بعد فوراَ فرض کیا گیا ہے۔ یہ اجتماعی فریضہ منتخب نمائندوں کی اولیں ذمہ داری ہے ہے اور باقی مسلمین اس فریضہ میں ٹیکس، زکوٰۃ اور صدقات دے کر شامل ہونگے۔ 

اس آیت کا ایک حصہ جو صبر کی ضمن میں ہے، وہ ہے جہاد یا جنگ کی صورت میں صبر کا حکم، اسکی مزید وضاحت ہم کو Defence of ideological State ، اس نظریاتی ریاست کا دفاع کے ساتھ اور عوام کی بھلائی اور خیرخواہی کے ساتھ سورۃ التوبۃ:8 , آیت:60 میں ملتی ہے، 

بیشک صدقات (زکوٰۃ) 
1۔ غریبوں اور محتاجوں [Establishment of a Welfare State to help the poor and needy ] اور 
2۔ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں [For employees who adminster these funds ] اور
3۔ ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو
[For promotion of Islam تبلیغ و اشاعت ] اور
4۔ (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں
[To Free the prisoners of Wars and from slavery] اور
5۔ قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں[ To bring back the bankrupts back to business] اور
6۔ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والوں پر) [Defence of the Ideological State] اور
7۔ مسافروں [ابن سبیل یعنی Son of Street or homeless people ] پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ 
یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے.

قرآن، ہم کو اجتماعی طور پر، یعنی ریاست کو اور افراد کو، مال خرچ کرنے کے اہم نکات بتاتا ہے۔ اور ان کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ وہ، ریاست پر، سوسائٹی پر، معاشرے پر اور افراد پر فرائض بن جاتے ہیں۔ ان فرائض کی بجا آوری ہم کو اجتماہی خوشحالی کی طرف لی جاتی ہے، ایک ایسی اجتماعی خوشحالی جو ترقی اور خوشی کا پیامبر ہے۔ 

قرآن اس نظریاتی فلاحی ریاست کے دفاع کی کوشش ( یعنی"جہد" کہ "جہاد" کا مصدر ہے) کو ٹیکسز، زکوۃ اور صدقات سے منسلک و مشروط کرتا ہے۔ اس طرح قران جہاں فلاحی ریاست کے قیام سے معاشرہ کی برائیوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ جس میں لوگ پیسہ یا کھانے کی کمی کی وجہ سے چوری و ڈاکہ زنی یا جسم فروشی سے احتراز کریں گے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب لوگوں کو کم از کم رزق کی فکر نہ رہے۔ یہ ہے قرآن کا اندرونی نظریہ جہاد۔

بیرونی جہاد کو بھی قرآن، ریاست کی آمدنی یعنی ٹیکسز، زکوۃ اور صدقات سے منسلک کرتا ہے۔ کہ قدیم دور میں یہ دفاع معمولی ہتھیاروں سے کیا جاتا تھا۔ جبکہ آج کی ضرورت، ریاست میں بہترین ذرائع نقل و حمل، بہترین سڑکیں، دفاع کا بہترین انفراسٹرکچر، کرہ ارض پر ٹیلی کمیونیکیشن سیٹیلائٹس، کہ، آپ کے جنگی بحری جہازوں، فضائی طیاروں میں ربط رہے اور آپ اس نظام کے خلاف کھڑے ہونے والے کیخلاف کرہ ارض پر کسی بھی جگہ اسٹرئیک کرسکیں تو اس کے لئے جدید ترین Accurate at all speed Global Position Sattelite System کی ضرورت ہے۔ اس دفاع کے لئے کام کرکے، درکار سرمایہ فراہم کرنا، مسلمین کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس نظریاتی و فلاحی ریاست کی ہر نظام کی تعمیر، ایسے دفاعی نکتہ نظر سے کی جائے کہ ایک مربوط دفاعی نظام جنم لے سکے جو اس فلاحی نظام کی حفاظت کا زمہ دار ہوا۔ یہ ہے وہ کوشش، جہد یا جہاد جس کی تلقین قران کرتا ہے۔ 

معمولی ہتھیار اٹھاکر غیر منظم بھاگ دوڑ کو قران نامنظور کرتا ہے اور فساد قرار دیتا ہے۔

ایک منظم دفاعی نظام کا قیام، جس میں ایک عام آدمی کوئی بھی دمہ داری قبول کر کے ایک عظیم دفاعی نظام کو سپورٹ فراہم کرتا ہے، جس سے ریاست کے منتخب افراد کے تحت ایک بہترین دفاعی نظام یا فوج تیار ہو، اور نظریاتی و فلاحی ریاست کی حفاظت کرے۔ اصل جہاد ہے۔ سب کا مشترکہ جہاد،

یہ دفاع یا جہاد اسی صورت ممکن ہے جب کرہ ارض‌پر ہر جگہ آپ کے اپنے ہزاروں ‌بحری جہاز، فضا میں آپ کے اپنے فضائی جہاز، دنیا پر آپ کا اپنا GPS سسٹم اور مواصلاتی نظام، ہو۔ اور یہ نظام مستعار لیا ہوا نہ ہو بلکہ اسکا ہر جزو آپ نے اپنی تعلیم و علم سے بنایا ہو۔ اسکا کاروباری نظام، اسکا مینوفیکچرنگ نظام، جس سے تمام اکوئپمنٹس، یمپونینٹس اور آلات بنتے ہو، آپ اس فلاحی ریاست اور اسکے دفاعی نظام کو قائم کیجئے جو قرآن کے احکامات و اصولوں کے مطابق ہو۔ تو بدلے میں اللہ آپ سے کیا وعدہ فرماتا ہے۔ دیکھئے اللہ کا وعدہ سورۃ النور:23 , آیت:55 تمام ارض اللہ یعنی کرہ ارض پر حکومت و خلافت!

اللہ نے ایسے لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے (جس کا ایفا اور تعمیل امت پر لازم ہے) جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ ضرور انہی کو زمین میں خلافت (یعنی امانتِ اقتدار کا حق) عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان لوگوں کو (حقِ) حکومت بخشا تھا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لئے ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے (غلبہ و اقتدار کے ذریعہ) مضبوط و مستحکم فرما دے گا اور وہ ضرور (اس تمکّن کے باعث) ان کے پچھلے خوف کو (جو ان کی سیاسی، معاشی اور سماجی کمزوری کی وجہ سے تھا) ان کے لئے امن و حفاظت کی حالت سے بدل دے گا، وہ (بے خوف ہو کر) میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے (یعنی صرف میرے حکم اور نظام کے تابع رہیں گے)، اور جس نے اس کے بعد ناشکری (یعنی میرے احکام سے انحراف و انکار) کو اختیار کیا تو وہی لوگ فاسق (و نافرمان) ہوں گے

یہ کام آپ کو بڑا لگتا ہے؟ اللہ تعالی آپ کی ہمت افزائی فرماتا ہے۔ دیکھئے سورۃ آل عمران:2 , آیت:139
اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو

یہ کوئی نیا وعدہ نہیں۔ یہ وعدہ تو اللہ تعالی نے زبور میں ہی کرلیا تھا سورۃ الانبيآء:20 , آیت:105

اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ (عالمِ آخرت کی) زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے

ہم کو اللہ تعالی اس وعدے (ایمان، نیکوکاری (جیسے کی البقرۃ آیت 177 میں درج ہے، فلاحی ریاست کا قیام اور اس کا دفاع ) کے لئے ارض اللہ میں تکمیل کا حکم دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کے وہ اپنا وعدہ ( یعنی ارض اللہ کی مکمل حکومت) آپ کو عطا کریں گے۔ دیکھئے سورۃ البقرۃ:1 , آیت:40

اے بنی اسرائیل (اولادِ یعقوب)! میرے وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور تم میرے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کرو میں تمہارے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔

سورۃ النور:23 , آیت:55 سے واضح ہے کہ اب یہ وعدہ قرآن پر ایمان لانے والوں سے ہے اور اللہ کے اس وعدے کی تکمیل صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنا وعدہ پورا کرکے ایک فلاحی ریاست اور اسکا عظیم دفاعی نظام قائم کریں۔

اور (اے مسلمانو!) ان کے (مقابلے کے) لئے تم سے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلاتِ جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو اور بندھے ہوئے گھوڑوں کی (کھیپ بھی) اس (دفاعی تیاری) سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو ڈراتے رہو اور ان کے سوا دوسروں کو بھی جن (کی چھپی دشمنی) کو تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے، اور تم جو کچھ (بھی) اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم سے ناانصافی نہ کی جائے گی

والسلام
مکمل تحریر اور تبصرے >>

معاشرے میں سکون قلب، سلامتی، خوشی اور امن قائم کرنے کی دعا اورکوشش اور فساد کی ممانعت


معاشرے میں سکون قلب، سلامتی، خوشی اور امن قائم کرنے کی دعا اورکوشش اور فساد کی ممانعت

اللہ تعالی معاشرے میں سکون قلب، سلامتی، خوشی اور امن قائم کرنے کی دعا اور کوششوں کا تذکرہ فرماتے ہیں اور فساد کی ممانعت فرماتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ہر حکم ہم پر فرض ہے۔ 

امن و سکون و آباد ر ہنے کی دعا، نبیوں کی دعاؤں میں شامل ہے، دیکھئے :سورۃ إبراهيم:13 , آیت:37
اے ہمارے رب! بیشک میں نے اپنی اولاد (اسماعیل علیہ السلام) کو (مکہ کی) بے آب و گیاہ وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسا دیا ہے، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں پس تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ وہ شوق و محبت کے ساتھ ان کی طرف مائل رہیں اور انہیں (ہر طرح کے) پھلوں کا رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر بجا لاتے رہیں

مزید دیکھئے سورۃ البقرۃ:1 , آیت:126
اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! اسے امن والا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے نواز (یعنی) ان لوگوں کو جو ان میں سے اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے، (اللہ نے) فرمایا: اور جو کوئی کفر کرے گا اس کو بھی زندگی کی تھوڑی مدت (کے لئے) فائدہ پہنچاؤں گا پھر اسے (اس کے کفر کے باعث) دوزخ کے عذاب کی طرف (جانے پر) مجبور کر دوں گا اور وہ بہت بری جگہ ہے

لہذا اللہ تعالی نے یہ طے کردیا ہے کہ ایمان (یعنی اس عالمگیر پیغام کو قبول کرنے اور ایمان لانے) سے امن مشروط ہے۔ دیکھئے سورۃ الانعام:5 , آیت:82

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے ظلم کے ساتھ نہیں ملایا انہی لوگوں کے لئے امن (یعنی اُخروی بے خوفی) ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں


قرآن کریم اللہ کی زمین میں فساد کرنے سے منع فرماتا ہے تاکہ معاشرے سے سکون قلب، سلامتی، خوشی اور امن نہ ختم ہوجائے۔ اللہ فساد کرنے والوں کو ناپسند فرماتا ہے۔ دیکھئے سورۃ البقرۃ:1 , آیت:27

(یہ نافرمان وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

جو اللہ کے رسول سے پھر جاتا ہے، وہ فساد کرتا ہے۔ دیکھئے سورۃ البقرۃ:1 , آیت:205

اور جب وہ (آپ سے) پھر جاتا ہے تو زمین میں (ہر ممکن) بھاگ دوڑ کرتا ہے تاکہ اس میں فساد انگیزی کرے اور کھیتیاں اور جانیں تباہ کر دے، اور اﷲ فساد کو پسند نہیں فرماتا

فساد کرنے والوں کے لئے اللہ حکم دیتا ہے کہ انکو ختم کردیا جائے۔ یقینا" یہ عمل "صاحب اختیار" لوگوں کے حکم سے ہونا چاہیے۔ دیکھئے سورۃ المآئدۃ:4 , آیت:33

بیشک جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیں یا پھانسی دیئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیئے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے

امن کے قیام پر زور اور فساد سے دور رہنے کی تاکید، کے اسکے بغیر اللہ کے برکت یعنی ترقی اور بڑھوتری و اضافہ ممکن نہیں۔ دیکھئے سورۃ الاعراف:6 , آیت:56

اور زمین میں اس کے سنور جانے (یعنی ملک کا ماحولِ حیات درست ہو جانے) کے بعد فساد انگیزی نہ کرو اور (اس کے عذاب سے) ڈرتے ہوئے اور (اس کی رحمت کی) امید رکھتے ہوئے اس سے دعا کرتے رہا کرو، بیشک اﷲ کی رحمت احسان شعار لوگوں (یعنی نیکوکاروں) کے قریب ہوتی ہے

قرآن، امن و امان، ذہنی و قلبی سکون، سلامتی اور خوشی کی تاکید کرتا ہے۔ یہ پیغام نبی کریم کی اسوہ حسنہ سے ثابت ہے، کہ اس کے بغیر اللہ کی برکت، ترقی، مالی اضافہ، روزگار اور فصل مشکل ہیں۔ قرآن کس طرح ہم کو ان اصولوں سے روشناس کرتا ہے جن سے اجتماعی خوشنودی و خوشی حاصل ہوتی ہے۔

والسلام
مکمل تحریر اور تبصرے >>

عدل کے قیام کی ہدایت:


عدل کے قیام کی ہدایت:

اللہ تعالی ہم پرعدل کا قیام فرض کرتا ہے آپس میں بھی اور معاشرے میں بھی۔ دیکھئے سورۃ النسآء:3 , آیت:58

بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو، بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے

عدل کرنے والوں کی ایک جماعت کی ضرورت، ایک مسلم معاشرے میں عدلیہ کانظام کے لئے دیکھئے سورۃ الاعراف:6 , آیت:181
اور جنہیں ہم نے پیدا فرمایا ہے ان میں سے ایک جماعت (ایسے لوگوں کی بھی) ہے جو حق بات کی ہدایت کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ عدل پر مبنی فیصلے کرتے ہیں

عدل کرنے کے وقت اپنی دشمنی اور نفرت اٹھا کر ایک طرف رکھ دو اور بے لاگ فیصلہ کرو۔ دیکھئے سورۃ المآئدۃ:4 , آیت:8

اے ایمان والو! اﷲ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اﷲ سے ڈرا کرو، بیشک اﷲ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے

رسولوں کے بھیجنھنے کا ایک بڑاا مقصد خود اللہ تعالی کے الفاظ میں، عدل کا قیام اور اسکی حفاظت (ہتھیاروں کی مدد سے واضح) ہے، دیکھئے سورۃ الحديد:56 , آیت:25

بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں، اور ہم نے (معدنیات میں سے) لوہا مہیّا کیا اس میں (آلاتِ حرب و دفاع کے لئے) سخت قوّت اور لوگوں کے لئے (صنعت سازی کے کئی دیگر) فوائد ہیں اور (یہ اس لئے کیا) تاکہ اللہ ظاہر کر دے کہ کون اُس کی اور اُس کے رسولوں کی (یعنی دینِ اسلام کی) بِن دیکھے مدد کرتا ہے، بیشک اللہ (خود ہی) بڑی قوت والا بڑے غلبہ والا ہے

جنہوں نے مسلمانوں سے جنگ نہیں کی ان کے ساتھ عدل اور انصاف کی تلقین کے لئے دیکھئے سورۃ الممتحنۃ:59 , آیت:8
اللہ تمہیں اس بات سے منع نہیں فرماتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے (یعنی وطن سے) نکالا ہے کہ تم ان سے بھلائی کا سلوک کرو اور اُن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرو، بیشک اللہ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے

عدل و انصاف کرتے ہوئے، اپنی خواہشات کو ایک طرف رکھ دیجئے، یعنی ایسے قوانین نہیں بنائیے جس سے لوگوں کی حق تلفی ہو یا معاملے کے ہوجانے کے بعد قانون اپنی خواہش سے بنایا جائے۔ قران اسکو منع کرتا ہے۔ دیکھئے سورۃ ص:37 , آیت:26

اے داؤد! بے شک ہم نے آپ کو زمین میں (اپنا) نائب بنایا سو تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے (یا حکومت) کیا کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ورنہ (یہ پیروی) تمہیں راہِ خدا سے بھٹکا دے گی، بے شک جو لوگ اﷲ کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اُن کے لئے سخت عذاب ہے اس وجہ سے کہ وہ یومِ حساب کو بھول گئے

قرآن کریم عدل قائم کرنے کے اصول مکمل احتیاط سے اور مکمل تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ آپ http://www.openburhan.net/ پر عدل کا مصدر منتخب کرکے قرآن کریم میں درج عدل و انصاف کی مکمل باریکیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ جس میں معاشرے میں عدل سے لے کر، اولاد، یتیموں، مسکینوں اور کمزور لوگوں سے عدل تک کے مکمل قواعد بیان کئے گئے ہیں۔ 1400 سال پہلے اس قدر وسعت سے عدل کے اصولوں کو بیان کرنا، بذات خود قرآن کا ایک اعجاز ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ان اصولوں نے بین الاقوامی قانون سازی اور عدل و انصاف کے تصورات کو جلا بخشی اور انسانی تاریخ ‌میں ایک عالمگیر کردار ادا کیا۔

والسلام۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>

مکمل اتحاد کی تلقین۔ قرآن کیا کہتا ہے؟


مکمل اتحاد کی تلقین۔

گذشتہ سے پیوستہ:

اللہ تعالی ہم کو مکمل اتحاد کی تلقین فرماتے ہیں۔ بغور دیکھیں تو یہ ایک اجتماعی نیکی ہے۔ دیکھئے:


وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنتُمْ اَعْدَاءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فاَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ اِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنقَذَكُم مِّنْھَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّہُ لَكُمْ آيَاتِہِ لَعَلَّكُمْ تَھْتَدُونَ (نوٹ درست عربی حروف کی لئے ویب اڈریس اوپر درج ہے)
اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم (دوزخ کی) آگ کے گڑھے کے کنارے پر(پہنچ چکے) تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ

اس آیت کے بہت سے اوصاف کی طرف علماء روشنی ڈال چکے ہیں، اصافی طور پر یہ کے بنیادی طور پر مسلمان فرقہ میں بٹے ضرور ہیں لیکن بغور دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کی یہ فرق صرف طریقہ عبادات تک محدود ہے۔ قران اور رسول کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے معاملے میں مسلمان بہت قریب ہیں اور قران کے بنیادی پیغام کی دل سے عزت کرتے ہیں۔ قران کی آیات کا بنیادی مطلب بھی سب کے نزدیک ایک ہی ہے۔ 
متحدہ ہونے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا مطلب متحدہ طور سے ایک ایسے سیاسی اور سماجی ڈھانچہ کی تعمیر ہے جہاں قران کے بنیادی اصول قائم رہیں۔ کروڑوں افراد کو متحد کرنے کے لئے، بیعت یا عرف عام میں‌ایوان نمائندگان ( مجلس شوری) کا تصور قران میں موجود ہے۔ اس بیعت یا ووٹنگ کی مدد سے عام انسان اپنے نمائندے منتخب کرکے ایک اجتماعی اسمبلی بناسکتے ہیں۔ مسلمانوں‌میں یہ تصور بہت پہلے سے موجود ہے۔ یہاں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا مطلب ہم بہ آسانی یہ لے سکتے ہیں کہ اکثریت بھی قران کی اصولوں‌سے نہیں ہٹ سکتی اور ان اصولوں کو تبدیل یا ترک نہیں کر سکتی ہے،
مکمل تحریر اور تبصرے >>

قرآن کا طرز تخاطب


اللہ  تعالی کے فرمان قراۡٓن کا طرز تخاطب۔
اللہ تعالی کے فرمان قرآن کریم کا انداز تخاطب عموماً مجموعی ہے۔ جب تمام عالم انسانیت کو مخاطب کیا جاتا ہے تو اس طرح - یہاں دیکھئے، اللہ تعالیٰ تمام لوگوں‌کو يايھا الناس یعنی تمام کے تمام لوگوں سے مخاطب ہے۔

سورۃ النسآء:3 , آیت:174
يايھا الناس قد جاءكم برھان من ربكم وانزلنا اليكم نورا مبينا
اے تمام لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک دلیل آ چکی ہے اور ہم نےتمہاری طرف ایک ظاہر روشنی اتاری ہے


اسی طرح، وہ لوگ جو ایمان لائے، یعنی اس ہدایت کی روشنی کو مان لیا، ان کو اس طرح مخاطب کیا جاتا ہے۔
سورۃ الصف:60 , آیت:2 يايھا الذين امنوا لم تقولون ما لا تفعلون
اے تمام ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو

اسی طرح جو لوگ اس ہدایت کو نہیں مانتے، ان کو اے تمام رد کرنے والوں‌ یعنی اے تمام کافرو سے مخاطب کیا جاتا ہے۔

سورۃ الکافرون:108 , آیت:1 
قل يايھا الكافرون،
آپ فرما دیجئے: اے تمام کافرو!

اس طرح مخاطب کرنے کا مقصد یہ ہے قران کی تعلیمات، ہدایات، اصولوں تمام لوگوں کے لئے ہیں۔ اور انفرادی نیکیوں کی طرح اجتماعی نیکیوں کی قران کے نزدیک بڑی اھمیت ہے، گویا قرآن کریم کا ٹارگٹ تمام سوسائٹی ہے، صرف افراد نہیں۔

قرآن کریم فرماتا ہے کی مومنوں کے معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں۔ دیکھئے سورۃ الشورٰی:41 , آیت:38
اور جو لوگ اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور اُن کا فیصلہ باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور اس مال میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا ہے خرچ کرتے ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

قرآان کیا کہتا ہےِ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم،
قرآن کریم اللہ تعالی کا آخری پیغام جو اس نے ہمارے رسول پرنور حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم پر نازل فرمایا۔
آپ یہاں مختلف عام فہم موضوعات کے بارے میں، قرآن کیا کہتا ہے، قرانی آیات اور انکے تراجم پڑھ سکیں گے۔

قران کی آیات کا حوالہ دینے میں کوئی نادانستہ غلطی ہو تو براہ کرم درست حوالہ دے کر تصحیح فرمادیں۔

میں نے یہ مضمون تسلسل سے لکھنےکے ارادے سے شروع کیا ہے۔ اگر آپ تنقید کرنا چاھیں تو یہاں نہ کیجئے بلکہ اس دھاگے میں کیجئے۔

http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?p=169645#post169645

ان ارٹیکلز پڑھ کر آپ کے کیا خیالات ہیں، منرجہ بالا لنک میں لکھئے، اگر آپ کو کچھ اچھا لگا تو فرمائیے اور اگر آپ کسی تبدیلی کے خواہاں ہیں تو فرمائیے۔ تائید، تنقید، تعریف، پسند و ناپسند کے احساسات جان کر مجھے ان آرٹیکلز کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔ کہ مقصد اپنا محاسبہ اور حوالہ جات کی فراہمی ہے۔

والسلام،
فاروق سرور خان
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, October 14, 2012

نکاح، شادی، ۔۔ قرآن کیا کہتا ہے

جنوری 5,  2010 کو محترمہ مہوش علی کے متع کے حق میں نکات کے جواب پر قرآن حکیم سے حوالے۔
اصل مراسلات کا لنک نیچے موجود ہے۔

سب تفسیروں سے بہتر تفسیر کس کی ہے؟
سورۃ الفرقان:24 , آیت:33 وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا
اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب مشرح جواب (احسن و بہتر تفسیر) بھیج دیتے ہیں

متعہ ( فائیدہ ) کس معانی میں‌قرآن حکیم میں استعمال کیا گیا؟
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:36 فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُواْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَّلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ 
پھر شیطان نے انہیں اس جگہ سے ہلا دیا اور انہیں اس (راحت کے) مقام سے جہاں وہ تھے الگ کر دیا، اور (بالآخر) ہم نے حکم دیا کہ تم نیچے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے۔ اب تمہارے لئے زمین میں ہی معیّنہ مدت تک جائے قرار ہے اور نفع اٹھانا مقدّر کر دیا گیا ہے

متع یعنی فائیدہ ؟؟؟؟
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:196 وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُم بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُ قَلِيلاً ثُمَّ أَضْطَرُّهُ إِلَى عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ 
اور جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! اسے امن والا شہر بنا دے اور اس کے باشندوں کو طرح طرح کے پھلوں سے نواز (یعنی) ان لوگوں کو جو ان میں سے اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے، (اللہ نے) فرمایا: اور جو کوئی کفر کرے گا اس کو بھی زندگی کی تھوڑی مدت (کے لئے) فائدہ پہنچاؤں گا پھر اسے (اس کے کفر کے باعث) دوزخ کے عذاب کی طرف (جانے پر) مجبور کر دوں گا اور وہ بہت بری جگہ ہے

عورتوں کو فائیدہ دینا یعنی ان کو متعوھن کیا ہے؟ مہر یا اس کے کچھ حصہ کی ادائیگی۔
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:236 لاَّ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنُّ أَوْ تَفْرِضُواْ لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ 
نہیں ہے کچھ گناہ تم پر اگر طلاق دے دو تم عورتوں کو قبل اس کے کہ چھوا ہو تم نے انہیں یا مقرر کیا ہو ان کے لیے مہر اور کچھ نہ کچھ ضرور دو انہیں۔ جو خوشحال ہو (وہ دے) اپنے مقدور کے مطابق اور تنگدست اپنے مقدور کے مطابق یہ دینا دستور کے مطابق ہو، لازم ہے یہ نیک لوگوں پر

کیا متع یعنی فائیدہ بیوہ عوتوں کا حق ہے؟؟؟
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:240 وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِيَ أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوں اور (اپنی) بیویاں چھوڑ جائیں ان پر لازم ہے کہ (مرنے سے پہلے) اپنی بیویوں کے لئے انہیں ایک سال تک کا خرچہ دینے (اور) اپنے گھروں سے نہ نکالے جانے کی وصیّت کر جائیں، پھر اگر وہ خود (اپنی مرضی سی) نکل جائیں تو دستور کے مطابق جو کچھ بھی وہ اپنے حق میں کریں تم پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے


کیا متع یعنی فائیدہ مطلقہ عورتوں‌ کا حق ہے؟
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:241 وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ 
اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی مناسب طریقے سے خرچہ دیا جائے، یہ پرہیزگاروں پر واجب ہے


سورۃ الاحزاب:32 , آیت:49 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا 
اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو (یعنی خلوتِ صحیحہ کرو) تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو، پس انہیں کچھ مال و متاع دو اور انہیں اچھی طرح حُسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کرو



شادی یا دائمی نکاح کی شرائط :
سب کے سامنے ایجاب و قبول کی بنیاد۔
1۔ پسند کی عورت سے نکاح یعنی شادی 
سورۃ النسآء:3 , آیت:3 وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلاَّ تَعُولُواْ 
اور اگر اندیشہ ہو تم کو کہ نہ انصاف کرسکو تم یتیم (لڑکیوں) کے معاملے میں تو نکاح کر لوتم ان سے جو پسند آئیں تم کو عورتوں میں سے، دو دو ، تین تین، چار چار۔ پھر اگر خوف ہو تم کو یہ کہ نہ عدل کرسکو گے تو بس ایک یا پھر (لونڈی) جو تمہاری مِلک میں ہو۔ یہ زیادہ قریب ہے اس کے کہ بچ جاؤ تم ناانصافی سے۔

نکاح کے لئے عمر کی پختگی یعنی بلوغت کی شرط
سورۃ النسآء:3 , آیت:6 وَابْتَلُواْ الْيَتَامَى حَتَّى إِذَا بَلَغُواْ النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُواْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلاَ تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَن يَكْبَرُواْ وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُواْ عَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللّهِ حَسِيبًا 
اور یتیموں کی (تربیتہً) جانچ اور آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ بالغ ہو کر نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان میں ہوشیاری (اور حُسنِ تدبیر) دیکھ لو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو، اور ان کے مال فضول خرچی اور جلد بازی میں (اس اندیشے سے) نہ کھا ڈالو کہ وہ بڑے ہو (کر واپس لے) جائیں گے، اور جو کوئی خوشحال ہو وہ (مالِ یتیم سے) بالکل بچا رہے اور جو (خود) نادار ہو اسے (صرف) مناسب حد تک کھانا چاہئے، اور جب تم ان کے مال ان کے سپرد کرنے لگو تو ان پر گواہ بنا لیا کرو، اور حساب لینے والا اللہ ہی کافی ہے


مہر کی ادائیگی
سورۃ النسآء:3 , آیت:4 وَآتُواْ النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا 
اور عورتوں کو ان کے مَہر خوش دلی سے ادا کیا کرو، پھر اگر وہ اس (مَہر) میں سے کچھ تمہارے لئے اپنی خوشی سے چھوڑ دیں تو تب اسے (اپنے لئے) سازگار اور خوشگوار سمجھ کر کھاؤ ۔

دائمی شادی، پاکدامنی :
سورۃ النسآء:3 , آیت:24 وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا 
اور شوہر والی عورتیں (بھی تم پرحرام ہیں) سوائے ان (کافروں کی قیدی عورتوں) کے جو تمہاری مِلک میں آجائیں، (ان احکامِ حرمت کو) اللہ نے تم پر فرض کر دیا ہے، اور ان کے سوا (سب عورتیں) تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں تاکہ تم اپنے اموال کے ذریعے طلبِ نکاح کرو شوہر والی بنانے کے لئے نہ کہ وقتی شہوت بہانے کے لئے، پھر ان میں سے جن سے تم نے اس (مال) کے عوض فائدہ اٹھایا ہے انہیں ان کا مقرر شدہ مَہر ادا کر دو، اور تم پر اس مال کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم مَہر مقرر کرنے کے بعد باہم رضا مند ہو جاؤ، بیشک اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے

عفت مآبی، شوہر والی بننے کے لئے نہ کہ عارضی طور پر شہوت بہانے والیاں۔
سورۃ النسآء:3 , آیت:25 وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَن تَصْبِرُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 
اور تم میں سے جو کوئی (اتنی) استطاعت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کر سکے تو ان مسلمان کنیزوں سے نکاح کرلے جو (شرعاً) تمہاری ملکیت میں ہیں، اور اللہ تمہارے ایمان (کی کیفیت) کو خوب جانتا ہے، تم (سب) ایک دوسرے کی جنس میں سے ہی ہو، پس ان (کنیزوں) سے ان کے مالکوں کی اجازت کے ساتھ نکاح کرو اور انہیں ان کے مَہر حسبِ دستور ادا کرو درآنحالیکہ وہ (عفت قائم رکھتے ہوئے) قیدِ نکاح میں آنے والی ہوں نہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ درپردہ آشنائی کرنے والی ہوں، پس جب وہ نکاح کے حصار میں آجائیں پھر اگر بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی آدھی سزا لازم ہے جو آزاد (کنواری) عورتوں کے لئے (مقرر) ہے، یہ اجازت اس شخص کے لئے ہے جسے تم میں سے گناہ (کے ارتکاب) کا اندیشہ ہو، اور اگر تم صبر کرو تو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا مہر بان ہے

سورۃ المآئدۃ:4 , آیت:5 الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ 
آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لئے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) شوہر والی بنانے والے قیدِ نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (بہادینے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (اَحکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا


اب تک یہ واضح ہوچکا ہے کہ شادی کی شرائط میں‌ عورت کو محصنین یعنی دائمی بیوی بنانا مقصد ہے نہ کہ وقتی طور پر بہانا مقصد ہے۔ مرد کا فرض ہے کہ وہ دائمی شوہر بنے نہ کہ وقتی بہادینے والا بنے۔

دائمی نکاح کی یہ شرط --- عارضی نکاح یعنی شہوت کے لئے بہادینے سے پوری نہیں ہوتی۔

عارضی نکاح کا بھانڈا پوری طرح طلاق کی شرائط میں پھوٹتا ہے :
طلاق کی شرط جو عارضی ایک مہینے کے نکاح میں پوری نہیں ہوتی۔

طلاق یافتہ عورت کو اس کا حق دیا جائے، یہ مہر کے علاوہ ہے
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:241 وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ 
اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی مناسب طریقے سے خرچہ دیا جائے، یہ پرہیزگاروں پر فرض ہے

جو مرجائیں وہ بھی کم از کم ایک سال کا خرچہ کی وصیت کرکے جائیں اور گھر میں رہائش کا انتظام کی وصیت
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:240 وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِّأَزْوَاجِهِم مَّتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِيَ أَنفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُوفٍ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ 
اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوں اور (اپنی) بیویاں چھوڑ جائیں ان پر لازم ہے کہ (مرنے سے پہلے) اپنی بیویوں کے لئے انہیں ایک سال تک کا خرچہ دینے (اور) اپنے گھروں سے نہ نکالے جانے کی وصیّت کر جائیں، پھر اگر وہ خود (اپنی مرضی سی) نکل جائیں تو دستور کے مطابق جو کچھ بھی وہ اپنے حق میں کریں تم پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں، اور اﷲ بڑا غالب بڑی حکمت والا ہے

جو طلاق دیں وہ بھی مہر بھی دیں، نہ چھوا ہو تو آدھا اور نان نفقہ یعنی خرچہ بھی دیں۔
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:237 وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إَلاَّ أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَن تَعْفُواْ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلاَ تَنسَوُاْ الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ 
اور اگر تم نے انہیں چھونے سے پہلے طلاق دے دی درآنحالیکہ تم ان کا مَہر مقرر کر چکے تھے تو اس مَہر کا جو تم نے مقرر کیا تھا نصف دینا ضروری ہے سوائے اس کے کہ وہ (اپنا حق) خود معاف کر دیں یا وہ (شوہر) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے معاف کردے (یعنی بجائے نصف کے زیادہ یا پورا ادا کردے)، اور (اے مَردو!) اگر تم معاف کر دو تو یہ تقویٰ کے قریب تر ہے، اور (کشیدگی کے ان لمحات میں بھی) آپس میں احسان کرنا نہ بھولا کرو، بیشک اﷲ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے


طلاق یافتہ عورت اپنی رہائش کے گھر سے باہر نہیں نکالی جائے گی۔
سورۃ النور:23 , آیت:1 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا 
اے نبی! (مسلمانوں سے فرما دیں:) جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو اُن کے طُہر کے زمانہ میں انہیں طلاق دو اور عِدّت کو شمار کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا رب ہے، اور انہیں اُن کے گھروں سے باہر مت نکالو اور نہ وہ خود باہر نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، اور یہ اللہ کی (مقررّہ) حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو بیشک اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، (اے شخص!) تو نہیں جانتا شاید اللہ اِس کے (طلاق دینے کے) بعد (رجوع کی) کوئی نئی صورت پیدا فرما دے


جس وقتی متع یا وقتی نکاح کی بات ہورہی ہے وہ نہ تو دائمی شادی کی شرط أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ اور نہ ہی وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ کی شرط پوری ہوتی ہے۔


اسی طرح اس وقتی متع سے نا تو احکام طلاق (‌جو بہت مختصر لکھے ہیں) کی شرائط پوری ہوتی ہے کہ ایک سال تک کا کم از کم خرچہ اور چار دیواری کا تحفظ۔ اور نہ ہی ادائیگی مہر کی شرائط اور نہ ہی نان نفقہ کی ادائیگی کی شرائط۔

اب مزید دیکھئے مرد کا چار ماہ تک قریب جانے کا حق متاثر ہوتا ہے۔
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:226 لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَآؤُوا فَإِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 
اور ان لوگوں کے لئے جو اپنی بیویوں کے قریب نہ جانے کی قسم کھالیں چار ماہ کی مہلت ہے پس اگر وہ (اس مدت میں) رجوع کر لیں تو بیشک اﷲ بڑا بخشنے والا مہربان ہے


اور عورت و مرد کا ایک دوسرے سے علیحدگی کا باہمی حق متاثر ہوتا ہے۔
سورۃ البقرۃ:1 , آیت:227 وَإِنْ عَزَمُواْ الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 
اور اگر انہوں نے طلاق کا پختہ ارادہ کر لیا ہو تو بیشک اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے

اللہ تعالی طلاق کی بنا ناچاقی اور فریقین کی مرضی قرار دیتا ہے نہ کہ ایک معاہداتی میعاد؟؟؟؟
اللہ تعالی اس ناچاقی کو دور کرنے کی کوشش کی حوصلہ افزائی فرماتا ہے ۔ نہ کہ عارضی شادی کی ۔

سورۃ النسآء:3 , آیت:35 وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُواْ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلاَحًا يُوَفِّقِ اللّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا 
اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو تو تم ایک مُنصِف مرد کے خاندان سے اور ایک مُنصِف عورت کے خاندان سے مقرر کر لو، اگر وہ دونوں (مُنصِف) صلح کرانے کا اِرادہ رکھیں تو اللہ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا، بیشک اللہ خوب جاننے والا خبردار ہے



شادی اور طلاق کے بنیادی احکامات و شرائط پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ واضح‌کیا جائے کہ شادی ایک دائمی معاہدہ ہے، جس سے وراثت جنم لیتی ہے۔ معاشرہ کے تانے بانے بنے جاتے ہیں ۔ عارضی شادی یا معاہداتی شادی یعنی ---- متع --- یعنی عورت سے عارضی فائیدہ اٹھانے کی شادی ---- کی حوصلہ افزائی کرنا اسلامی معاشری کے تانے بانے کو توڑنے کے مترادف ہے۔ اس تانے بانے کو توڑنے سے عورتوں‌کے ساتھ معاشرتی ناانصافی کا نا رکنے والا سیلاب جنم لیتا ہے۔ ایسا کوئی بھی نظریہ اللہ تعالی کے فرمان ، قرآن کے بنیادی فریم ورک کے خلاف ہے اور اللہ تعالی کی شدید حکم عدولی ہے۔

اس سارے نظریہ کے بنیاد --- صرف ایک لفظ --- اسْتَمْتَعْتُم --- 4:24 ہے جبکہ یہاں صرف یہ واضح کیا گیا ہے کہ شادی کی صورت میں جو فائید تم اٹھاتے ہو اس پر عورتوں کو مہر ادا کرنا فرض ہے۔

متعہ حرام ہی نہیں بلکہ اللہ تعالی کے احکامات کی حکم عدولی ہے۔ اس سے کچھ لوگ کچھ عرصہ تک تو بے وقوف بن سکتے ہیں لیکن تمام لوگ ہمیشہ بے وقوف نہیں بن سکتے ہیں۔

والسلام

مکمل تحریر اور تبصرے >>