Monday, October 15, 2012

عوام کی فلاح و بہبود اور نظریاتی ریاست کا دفاع




عوام کی فلاح و بہبود اور نظریاتی ریاست کا دفاع

ہم ایک مسلم معاشرہ میں لوگوں سے کٹ کر نہیں رہ سکتے، قرآن ایک اجتماعی پیغام ہے اور اس کے احکامات کو معاشرہ اور سوسائٹی کے لئے سمجھنا ضروری ہے۔ ریاست میں عوام کی بھلائی یعنی ایک ویلفئیر اسٹیٹ کا قیام اور اس نظریاتی ریاست کا دفاع قرآن ہم پر فرض‌کرتا ہے۔ پہلے دیکھئےسورۃ البقرۃ:1 , آیت:177
میری کوشش اب تک یہ رہی ہے کہ صرف ترجمے کی مدد سے قرآن کے پیغام کو سمجھ لیا اور سمجھا دیا جائے۔ اس آیت کے ترجمے میں، میں ایسے خیالات کی وضاحت کروں گا، جو اس آیت کو انفرادی پیغام کے نکتہ نظر سے نہیں بلکہ اجتماعی نکتہ نظر سے پیدا ہوتے ہیں۔

نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں

اللہ تعالی اس آیت میں نیکی کی تعریف (Definition of righteousness) فرماتے ہیں درج ذیل اہم نکات قایم کرتے ہیں۔

1۔ ایمان
اصل نیکی تو یہ ہے کہ آپ سب
1۔ اﷲ پر اور
2۔ قیامت کے دن پر اور 
3۔ فرشتوں پر اور
4۔ (اﷲ کی) کتاب پر اور
5۔ پیغمبروں پر ایمان لائیں، اور

2۔ مال کا خرچ کرنا
اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کریں، اور 

3۔ تماز کا قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی
نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور

4۔ وعدہ پورا کریں
جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور 

5۔ صبر کریں
اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار (نیکو کار) ہیں۔

تمام قرآن فہم اس بات سے متفق ہیں کہ اللہ تعالی ایک بہترین کلام کرنے والے ہیں۔ اور نہ اپنے الفاظ کا ضیاع کرتے ہیں نہ ہی بے کار خیالات کا اظہار۔ یہاں غور فرمائیے کہ اللہ تعالی نے ایمان کے فوراَ بعد اور تماز کے قیام اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے پہلے ہم پر مال کا خرچ کرنا ( اتی المال) فرض کیا ہے۔ بھر دیکھئے اور اس کی ترتیب بھی عنایت فرمائی ہے

2۔ مال کا ادا کرنا
اﷲ کی محبت میں مال ادا کرو 
1۔قرابت داروں کو اور 
2۔ یتیموں کو اور
3۔ المساکین ( وہ جو ساکن ہوں اور جو نہ مانگتے ہوں پھر بھی ضرورت مند ہوں یعنی Employees یعنی ملازمین ہوں) کو اور
4۔ ابن السبیل ( سڑک کے بیٹے یعنی ( Homeless ) کو اور
5. سایلیں یعنی سوال کرنے والے ضرورت مندوں کو اور
5۔ (غلاموں یا جنگی قیدیوں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کریں، 

ذرا بغور دیکھئے، قران واضح طور پر ایک اجتماعی فریضہ ہم پر عاید کر رہا ہے۔ جو ایمان لانے کے بعد فوراَ فرض کیا گیا ہے۔ یہ اجتماعی فریضہ منتخب نمائندوں کی اولیں ذمہ داری ہے ہے اور باقی مسلمین اس فریضہ میں ٹیکس، زکوٰۃ اور صدقات دے کر شامل ہونگے۔ 

اس آیت کا ایک حصہ جو صبر کی ضمن میں ہے، وہ ہے جہاد یا جنگ کی صورت میں صبر کا حکم، اسکی مزید وضاحت ہم کو Defence of ideological State ، اس نظریاتی ریاست کا دفاع کے ساتھ اور عوام کی بھلائی اور خیرخواہی کے ساتھ سورۃ التوبۃ:8 , آیت:60 میں ملتی ہے، 

بیشک صدقات (زکوٰۃ) 
1۔ غریبوں اور محتاجوں [Establishment of a Welfare State to help the poor and needy ] اور 
2۔ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں [For employees who adminster these funds ] اور
3۔ ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو
[For promotion of Islam تبلیغ و اشاعت ] اور
4۔ (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں
[To Free the prisoners of Wars and from slavery] اور
5۔ قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں[ To bring back the bankrupts back to business] اور
6۔ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والوں پر) [Defence of the Ideological State] اور
7۔ مسافروں [ابن سبیل یعنی Son of Street or homeless people ] پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ 
یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے.

قرآن، ہم کو اجتماعی طور پر، یعنی ریاست کو اور افراد کو، مال خرچ کرنے کے اہم نکات بتاتا ہے۔ اور ان کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ وہ، ریاست پر، سوسائٹی پر، معاشرے پر اور افراد پر فرائض بن جاتے ہیں۔ ان فرائض کی بجا آوری ہم کو اجتماہی خوشحالی کی طرف لی جاتی ہے، ایک ایسی اجتماعی خوشحالی جو ترقی اور خوشی کا پیامبر ہے۔ 

قرآن اس نظریاتی فلاحی ریاست کے دفاع کی کوشش ( یعنی"جہد" کہ "جہاد" کا مصدر ہے) کو ٹیکسز، زکوۃ اور صدقات سے منسلک و مشروط کرتا ہے۔ اس طرح قران جہاں فلاحی ریاست کے قیام سے معاشرہ کی برائیوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ جس میں لوگ پیسہ یا کھانے کی کمی کی وجہ سے چوری و ڈاکہ زنی یا جسم فروشی سے احتراز کریں گے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب لوگوں کو کم از کم رزق کی فکر نہ رہے۔ یہ ہے قرآن کا اندرونی نظریہ جہاد۔

بیرونی جہاد کو بھی قرآن، ریاست کی آمدنی یعنی ٹیکسز، زکوۃ اور صدقات سے منسلک کرتا ہے۔ کہ قدیم دور میں یہ دفاع معمولی ہتھیاروں سے کیا جاتا تھا۔ جبکہ آج کی ضرورت، ریاست میں بہترین ذرائع نقل و حمل، بہترین سڑکیں، دفاع کا بہترین انفراسٹرکچر، کرہ ارض پر ٹیلی کمیونیکیشن سیٹیلائٹس، کہ، آپ کے جنگی بحری جہازوں، فضائی طیاروں میں ربط رہے اور آپ اس نظام کے خلاف کھڑے ہونے والے کیخلاف کرہ ارض پر کسی بھی جگہ اسٹرئیک کرسکیں تو اس کے لئے جدید ترین Accurate at all speed Global Position Sattelite System کی ضرورت ہے۔ اس دفاع کے لئے کام کرکے، درکار سرمایہ فراہم کرنا، مسلمین کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اس نظریاتی و فلاحی ریاست کی ہر نظام کی تعمیر، ایسے دفاعی نکتہ نظر سے کی جائے کہ ایک مربوط دفاعی نظام جنم لے سکے جو اس فلاحی نظام کی حفاظت کا زمہ دار ہوا۔ یہ ہے وہ کوشش، جہد یا جہاد جس کی تلقین قران کرتا ہے۔ 

معمولی ہتھیار اٹھاکر غیر منظم بھاگ دوڑ کو قران نامنظور کرتا ہے اور فساد قرار دیتا ہے۔

ایک منظم دفاعی نظام کا قیام، جس میں ایک عام آدمی کوئی بھی دمہ داری قبول کر کے ایک عظیم دفاعی نظام کو سپورٹ فراہم کرتا ہے، جس سے ریاست کے منتخب افراد کے تحت ایک بہترین دفاعی نظام یا فوج تیار ہو، اور نظریاتی و فلاحی ریاست کی حفاظت کرے۔ اصل جہاد ہے۔ سب کا مشترکہ جہاد،

یہ دفاع یا جہاد اسی صورت ممکن ہے جب کرہ ارض‌پر ہر جگہ آپ کے اپنے ہزاروں ‌بحری جہاز، فضا میں آپ کے اپنے فضائی جہاز، دنیا پر آپ کا اپنا GPS سسٹم اور مواصلاتی نظام، ہو۔ اور یہ نظام مستعار لیا ہوا نہ ہو بلکہ اسکا ہر جزو آپ نے اپنی تعلیم و علم سے بنایا ہو۔ اسکا کاروباری نظام، اسکا مینوفیکچرنگ نظام، جس سے تمام اکوئپمنٹس، یمپونینٹس اور آلات بنتے ہو، آپ اس فلاحی ریاست اور اسکے دفاعی نظام کو قائم کیجئے جو قرآن کے احکامات و اصولوں کے مطابق ہو۔ تو بدلے میں اللہ آپ سے کیا وعدہ فرماتا ہے۔ دیکھئے اللہ کا وعدہ سورۃ النور:23 , آیت:55 تمام ارض اللہ یعنی کرہ ارض پر حکومت و خلافت!

اللہ نے ایسے لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے (جس کا ایفا اور تعمیل امت پر لازم ہے) جو تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ ضرور انہی کو زمین میں خلافت (یعنی امانتِ اقتدار کا حق) عطا فرمائے گا جیسا کہ اس نے ان لوگوں کو (حقِ) حکومت بخشا تھا جو ان سے پہلے تھے اور ان کے لئے ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے (غلبہ و اقتدار کے ذریعہ) مضبوط و مستحکم فرما دے گا اور وہ ضرور (اس تمکّن کے باعث) ان کے پچھلے خوف کو (جو ان کی سیاسی، معاشی اور سماجی کمزوری کی وجہ سے تھا) ان کے لئے امن و حفاظت کی حالت سے بدل دے گا، وہ (بے خوف ہو کر) میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے (یعنی صرف میرے حکم اور نظام کے تابع رہیں گے)، اور جس نے اس کے بعد ناشکری (یعنی میرے احکام سے انحراف و انکار) کو اختیار کیا تو وہی لوگ فاسق (و نافرمان) ہوں گے

یہ کام آپ کو بڑا لگتا ہے؟ اللہ تعالی آپ کی ہمت افزائی فرماتا ہے۔ دیکھئے سورۃ آل عمران:2 , آیت:139
اور تم ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب آؤ گے اگر تم (کامل) ایمان رکھتے ہو

یہ کوئی نیا وعدہ نہیں۔ یہ وعدہ تو اللہ تعالی نے زبور میں ہی کرلیا تھا سورۃ الانبيآء:20 , آیت:105

اور بلا شبہ ہم نے زبور میں نصیحت کے (بیان کے) بعد یہ لکھ دیا تھا کہ (عالمِ آخرت کی) زمین کے وارث صرف میرے نیکو کار بندے ہوں گے

ہم کو اللہ تعالی اس وعدے (ایمان، نیکوکاری (جیسے کی البقرۃ آیت 177 میں درج ہے، فلاحی ریاست کا قیام اور اس کا دفاع ) کے لئے ارض اللہ میں تکمیل کا حکم دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کے وہ اپنا وعدہ ( یعنی ارض اللہ کی مکمل حکومت) آپ کو عطا کریں گے۔ دیکھئے سورۃ البقرۃ:1 , آیت:40

اے بنی اسرائیل (اولادِ یعقوب)! میرے وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور تم میرے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کرو میں تمہارے (ساتھ کیا ہوا) وعدہ پورا کروں گا، اور مجھ ہی سے ڈرا کرو۔

سورۃ النور:23 , آیت:55 سے واضح ہے کہ اب یہ وعدہ قرآن پر ایمان لانے والوں سے ہے اور اللہ کے اس وعدے کی تکمیل صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنا وعدہ پورا کرکے ایک فلاحی ریاست اور اسکا عظیم دفاعی نظام قائم کریں۔

اور (اے مسلمانو!) ان کے (مقابلے کے) لئے تم سے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلاتِ جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو اور بندھے ہوئے گھوڑوں کی (کھیپ بھی) اس (دفاعی تیاری) سے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو ڈراتے رہو اور ان کے سوا دوسروں کو بھی جن (کی چھپی دشمنی) کو تم نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے، اور تم جو کچھ (بھی) اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور تم سے ناانصافی نہ کی جائے گی

والسلام

0 comments: